ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / زرعی قوانین سے ناراض لوگ ہی نہیں، بے روزگاری سے پریشان افراد بھی ’دہلی سرحد‘ پر ہو رہے جمع!

زرعی قوانین سے ناراض لوگ ہی نہیں، بے روزگاری سے پریشان افراد بھی ’دہلی سرحد‘ پر ہو رہے جمع!

Mon, 15 Feb 2021 23:30:48    S.O. News Service

نئی دہلی،15؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) ’’مجھے کسان تحریک میں کھانا بنانے، برتن دھونے اور دیگر کاموں کے لیے روزانہ 500 روپے ملتے ہیں۔ ساتھ ہی گاؤں کے لڑکے بھی آئے ہوئے ہیں اور سبھی دِہاڑی پر کام کر رہے ہیں۔‘‘ اتر پردیش کے شاملی ضلع باشندہ شیکھر ائیر پورٹ پر ملازمت کرتے تھے۔ لیکن کورونا بحران میں گھر چلے گئے۔ ملازمت سے نکالے جانے کے بعد وہ بے روزگار ہو گئے۔ حالانکہ کسان تحریک میں انھیں روزگار ملا اور وہ اب یہاں روزانہ دِہاڑی پر کام کر رہے ہیں۔ شیکھر کا کہنا ہے کہ ’’میں گزشتہ تین سال سے ائیر پورٹ پر کام کرتا تھا، لیکن کورونا بحران میں کمپنی نے ملازم سے نکال دیا۔ گھر میں والد نہیں ہیں۔ میری ماں اور بھائی ہیں، ان کا دھیان رکھنے کے لیے کچھ تو کرنا پڑے گا۔‘‘

شیکھر شرما ہی نہیں بلکہ کئی دیگر لوگ بھی کسان تحریک سے ہی اپنا گھر چلا رہے ہیں۔ گزشتہ 82 دنوں سے زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک جاری ہے۔ ایسے میں ہر کوئی اپنے مطابق تحریک کا حصہ بن رہا ہے۔ کوئی لنگر کی خدمت دے کر تحریک کا حصہ بن رہا ہے تو کوئی یہاں کام کر کے۔ لیکن کچھ لوگوں کے لیے تحریک ان کے گھر کے دیگر لوگوں کے پیٹ پالنے کا سہارا بنا ہوا ہے۔

دراصل کسان تحریک میں پہلے دن سے ہی لنگر چل رہا ہے۔ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے کسانوں نے تحریک کے مقامات پر لنگر سروس شروع کی ہوئی ہے۔ سبھی کسان اپنے ساتھ مہینوں کے حساب سے راشن لے کر آئے ہیں اور اس کی آمد کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ سبھی بارڈر پر روزانہ سینکڑوں کسانوں اور دیگر لوگوں کا کھانا بنتا ہے۔ جگہ جگہ لنگر سروس چل رہی ہے۔ لاکھوں لوگوں کا کھانا مظاہرہ کر رہے کسان خود ہی بنا رہے ہیں۔ لیکن کئی مقامات پر باورچی اور مزدوروں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔

غازی پور بارڈر پر بھی کچھ اسی طرح کا نظارہ ہے جہاں ایک طرف کسان خود ہی لنگر چلا رہے ہیں، تو کچھ لنگروں پر باہر سے باورچی کھانا بنا رہے ہیں جس کے لیے انھیں روزانہ کے حساب سے پیسے ملتے ہیں۔ اتر پردیش کے بلند شہر باشندہ اشوک نے بتایا کہ ’’کسان تحریک میں گزشتہ ایک مہینے سے موجود ہوں۔ ہر دن کام کرنے کے لیے 300 روپے دِہاڑی ملتی ہے۔ جس میں مجھے سبزی کاٹنی ہوتی ہے، برتن دھونے ہوتے ہیں۔‘‘ اشوک کا مزید کہنا ہے کہ ’’ہمارا ٹھیکیدار ہمارا حساب کرتا ہے۔ بارڈر پر ہماری 8 لوگوں کی ٹیم آئی ہوئی ہے اور سبھی کو روزانہ کے حساب سے پیسے ملتے ہیں۔‘‘

بلند شہر کے ہی چندرپال کو بھی 500 روپے دِہاڑی ملتی ہے۔ ان کا بھی یہی کام ہے کہ صبح سے لے کر شام تک کسانوں کے لیے کھانا بنانا اور برتن دھونا۔ چندرپال نے بتایا کہ ’’15 دن سے یہیں ہوں اور روزگار کے لیے آیا ہوں۔‘‘ 21 دسمبر سے بارڈر پر موجود انجل کمار بھی 500 روپے دہاڑی پر کام کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے گاؤں میں بھی کام کرتے تھے، لیکن وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ یہاں آئے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔


Share: